قرآن کا نقش
امام خميني کي زندگي ميں
سيد بشارت حسين زيدي واعظ

رہبر اعظم حضرت آيۃ اللہ العظميٰ سيدروح اللہ خميني سيکڑوں اہم خصوصيات و امتيازات کے مالک تھے اور ان خصوصيات و امتيازات ميں ايک اہم خصوصيت و امتياز يہ تھا کہ آپکي زندگي اور آپکے بيانات ميں قرآن و عترت سے تمسک کا عنصر پايا جاتا تھا ، بلا تشبيہ جس طرح حضرت علي عليہ السلام اور ديگر آئمہ طاہرين عليہم السلام کے بيانات قرآن مجيد کي ترجماني کرتے تھے ، اسي طرح روح اللہ خميني کے بيانات قرآن و عترت کي ترجماني کرتے تھے .
آپ نے پوري زندگي قرآن مجيد کو اپنا رہبر و قائد بنا ئے رکھا . اور جو کچھ اس سے حاصل کيا وہ کسي کي نگاہ سے پوشيدہ نہيں ہے . چنانچہ يہ سر زمين ايران کا انقلاب فقط قرآني کاوشوں کا نتيجہ ہے . امام خميني نے اپني اقليت کے ساتھ سفينہ باطل کو نذر طوفان کرديا . اور دنيا کو بتاديا ، کہ اگر انسان قوانين و ضوابط قرآن مجيد پر عمل پيرا ہو جائے تو باطل ولو اکثريت ہي ميں کيوں نہ ہو ايک دن اسے ضرور شرمندہ ہونا پڑے گا . اور حق کے سامنے يا تو سر تسليم خم کرنا پڑے گا يا پھر راہ فرار اختيار کرے گا .
امام خميني کي زندگي کا مطالعہ کرنے سے يہ بات واضح ہو جاتي ہے کہ آپکي پوري زندگي پر قرآن مجيد محيط رہاہے يہي وجہ ہے کہ آپنے اپني ہر تقرير ميں لوگوں کو قرآن کي آيتوں سے استدلال کر کے راہ حق کي رہنمائي کي . اور اسکا نتيجہ يہ نکلاکہ انقلاب اسلامي نے مختصر سي مدت ميں مشرق و مغر ب کے بنائے ہوئے سارے فارمولوں کو غلط ثابت کرديا ور انکے تمام شيطاني نظريات پر بجلي گرادي . چنانچہ امام خميني نے اسکي طرف يوں اشارہ کيا . آپ فوجيوں کے مجمع ميں تقرير کر رہے تھے تو ارشاد فرمايا : اے ميرے عزيز بھائيوں جو چيز ملت ايران اور سبکے لئے اہم ہے وہ يہ کہ ہم خدائے متعال سے لو لگائے رہيں . اور اس سے ايک لمحہ کے لئے بھي غافل نہ ہوں . اور ہم فقط اسي کے لئے آگے بڑھتے رہيں گے اور ايک دوسرے موقع پر ارشاد فرمايا .کہ يہ انقلاب ايران فقط خدا کے لئے ہے ہمارا شروع سے ہي نعرہ نعرہ تکبير تھا . اور انشائ اللہ آخر تک رہے گا . ميں تمام موجودہ اور آئندہ نسلوں سے وصيت کرتا ہوں کہ اگر وہ اسلام اور اللہ کي حکومت باقي رکھنا چاہتے ہيں تو وہ جذبہ شعور عطا کرنے والي کتاب قرآن مجيد سے کبھي غافل نہيں ہوں گے .
ان بيانات کي روشني ميں يہ کہنا آسان ہے کہ اس انقلاب کي کاميابي کے دو بنيادي رکن ہيں : ايک ہے جذبہ للّٰھيت ، اوردوسرے اس جذبہ کو جامہ عمل پہنانے کے لئے پوري قوم وملت کا اتحاد و اجتماع .
آئيے ان بيانات کو قرآن کي روشني ميں ديکھتے ہيں چنانچہ قرآن مجيد ميں اللہ تعاليٰ نے اپنے حبيب کو مخاطب کر کے ارشاد فرمايا :
قل انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموالللّٰہ مثنيٰ و فرٰديٰ (سبائ ٤٦)
اے نبي ان سے کہہ ديجئے کہ ميں تمہيں بس ايک بات کي نصيحت کرتا ہوں کہ تم دو دو اور ايک ايک ملکر خدا کے لئے قيام کرو . اور پھر تفکر کرو . اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمايا :
وما امرواالاّليعبد اللہ مخلصين لہ الدين حنفائ و يقيمواالصلوٰ ۃ يوتوالزکاۃ و ذٰلک دين القيمۃ (بينہ٥)
انہيں صرف يہ حکم ديا گيا ہے کہ اپنے دين کو خالص کر کے خدا کي عبادت کريں نماز قائم کريں زکاۃ ادا کريں يہي نہا يت صحيح و درست دين ہے .
تو مذکورہ بالا بيانات امام خميني
 ان آيات کي ترجماني کررہے ہيں .
اسلامي انقلاب کي کاميابي اور بقا کے جہاں اور بہت سے ارکان ہيں وہاں سب سے اہم اور بنيادي رکن مبدائ و معاد ہے اور يہي وہ رکن ہے کہ جس نے تمام انبيائ الٰہي کي تحريکوں ميں بنيادي کردار ادا کيا . چنانچہ قرآن مجيد ميں ہے کہ تمام انبيائ نے اپني قوموں سے يہي کہا
يا قوم اعبدواللہ ما لکم من الٰہ غيرہ ( اعراف ٥٩)
اے قوم والوں اللہ کي عبادت کرو اسکے علاوہ تمہارا کوئي معبود نہيں .
مرسل اعظم صلي عليہ وآلہ وسلم کي عالمي تحريک بھي اسي اصول پر استوار تھي . بعثت کے آغاز ميں حضور ختمي مرتبت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي جانب سے پيش کئے جانے والے مسائل کا زيادہ تر حصہ مبدائ و معاد ہي سے مربوط رہتا تھا . مثال کے لئے بعثت کے آغاز ميں نازل ہونے والے قرآن مجيد کے چھوٹے چھوٹے سوروں کو پيش کيا جاسکتا ہے . کيونکہ ان سورو ں کا زيادہ تر حصہ مبدائ و معاد سے مربوط مسائل سے تعلق رکھتا ہے .
امام خميني  کے بيانا ت کا بھي اہم ترين حصہ ان ہي مسائل سے مربوط نظر آتا ہے . چنانچہ آپ نے پيريس کے ايک انٹر ويو ميں ارشاد فرمايا کہ اسلامي انقلاب کي بنياد توحيدي اصول ہيں اور يہ اصول معاشرے کے تمام امور پر سايہ فگن ہيں اسلام ميں انسان بلکہ ساري کائنات کا معبود خدا ہے اور ہر انسان کا فريضہ ہے کہ اسکا ہر عمل اللہ اور اسکي رضا کے لئے انجام پائے اور اسکے بعد فرمايا کہ جو چيز بنيادي تھي وہ يہ تھي کہ عوام اسلام اور ايمان کي بنياد پر ميدان ميں اتر آئے اور چونکہ بات اسلام و ايمان کي تھي . لہذا تمام طبقے آپس متحد ہو گئے اور يہ اتحاد فقط توحيد کي بنياد پر قائم ہو اتھا پھر اسکے بعد اپنے الٰہي سياسي وصيت نامے ميں فرماتے ہيں کہ اسلام اور اسلامي حکومت ايک الٰہي تجلي ہے جو اپنے نفاذ کي صورت ميں فرزندان اسلام کیلئے دنيا و آخرت کي سعادت کے اسباب بہترين طريقے سے فراہم کر سکتي ہے .
امام خميني
 نے اپنے بيانا ت ميں بارہا اس نکتہ کي طرف متوجہ کيا . اور اتحاد کو انقلاب کا سب سے اہم رکن بتايا . چنانچہ فوجيوں کے درميان خطاب کے دوران ارشاد فرمايا : کہ انقلاب کے آغاز ميں قوم جس بات پر جمي ہوئي تھي وہ اتحاد اور خدا سے لو لگانا تھا . اور اس کا نتيجہ يہ نکلا کہ تم قلت کے باوجود بڑي طاقتوں کے مقابلے ميں کامياب رہے . تمام مسلمانوں خاص طور سے ايرانيوں ، نيز عصر حاضر کے انسانوں سے ميري وصيت يہ ہے کہ ان سازشوں کے مقابلے ميں اٹھ کھڑے ہوں . اور ہر ممکن طريقے سے اپنے درميان اتحاد و ہمبستگي کو مستحکم کريں . تا کہ کافرين و مشرکين و منافقين خود بخود مايوس ہو جائيں . شايد امام خميني  اتحاد سے بہتر اپني کاميابي کے لئے کوئي اور راستہ نہيں رکھتے تھے . اور امام خميني  نے يہ طريقہ مرسل اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي سيرت طيبہ سے اخذ کيا تھا . تاريخ گواہ ہے کہ جب پيغمبر اسلام نے مدينے ميں محدود پيمانے پر اسلامي حکومت تشکيل دے لي تو اسکے بعد جو پہلا قدم اٹھايا وہ امت اسلاميہ کے درميان اتحاد قائم کرنا تھا . لہٰذا اپنے مہاجرين و انصار کو ايک دوسرے کا بھائي بناديا ؛. اوراوس و خزرج کے صديوں پرانے جھگڑے کو محبت و اخوت ميں تبديل کر ديا جسکي ترجماني قرآني آيات نے اس انداز ميں کي
واعتصمو ا بحبل اللہ جميعاً ولا تفرقوا واذکرو ا نعمۃ اللہ عليکم اذکنتم اعدائ فالف بين قلوبکم فاصبحتم بنعمۃ اخواناً .(آل عمران ١٠٣)
تم سب ملکر اللہ کي رسي کو مضبوطي سے پکڑ لو اور متفرق نہ ہو .اللہ کے اس احسان کو ياد رکھو جو اس نے تم پر کيا . جبکہ تم ايک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دل جوڑ دئے اور اسکے فضل و کرم سے تم بھائي بھائي بن گئے .
اورسورہ حجرات کي دسويں آيت ميں ارشاد ہوتا ہے :
انماالمومنون اخوۃ فاصلحوا بين اخويکم واتقوااللّہ لعلکم ترحمون .
بيشک مومنين آپس ميں ايک دوسرے کے بھائي ہيں . لہذا اپنے بھائيوں کے درميان صلح اوردوستي قائم کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کيا جائے . ہم سب جانتے ہيں کہ اسلامي حکومت ميں نافذ ہونے والے قوانين خدا کے قوانين ہيں . ليکن انہيں نافذ کرنے والے عوام ہيں اور اصلي قانون ساز خدا اور جب کوئي قانون لاگو کرتا ہے تو اسکا انداز تکلم بھي جدا گانہ ہوتا ہے اور يہ انداز فقط نفوس کو تشويق عمل کي طرف مائل کر نے کیلئے ہوتا ہے . بقيہ آيندہ