تفسير سورہ حجرات

مفسر قرآن علامہ قرائتی
مترجم : 
سيد نسيم حيدر زيدي

 بسم اللہ الرحمٰن الرحيم
سورہ حجرات مدينہ ميں نازل ہوا . اسکي اٹھارہ آيتيں ہيں . يہ سورہ ’’حجرات ‘‘يا سورہ ’’آداب و اخلاق کے نام سے مشہور ہے . حجرات ، حجرہ کي جمع ہے . اس سورہ ميں رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے حجرات ( جو مٹي ، لکڑي اور خرمے کي شاخوں سے بالکل سادہ بنے ہوئے تھے ) کا ذکر آيا ہے جسکي وجہ سے اس سورہ کو حجرات کے نام سے ياد کيا جاتا ہے .
اس سورہ ميں ’’ يا ايھا الذين آمنو ا ‘‘  کے جملہ کي تکرار ايک صحيح اسلامي معاشرہ کي آئينہ دار ہے اور کچھ ايسے مسائل کي طرف اشارہ کيا گيا ہے جو دوسرے سوروں ميں بيان نہيں کئے گئے من جملہ :
١) رسول اعظم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے سبقت اور پيش قدمي کي ممانعت ، ان سے گفتگو کرنے کا سليقہ ، او ر

بے ادب افراد کو تنبيہ کي گئي ہے .
٢) تمسخر ، طعنہ زني ، بد گماني ، ايک دوسرے کي عيب جوئي اور غيبت جيسي برائيوں کو اس سورہ ميں اسلامي معاشرہ کے لئے حرام قرار ديا گيا ہے .
٣) اخوت و برادري ، صلح ، اتحاد ، عدالت ، مشکوک افراد کي خبر کي تحقيق نيز برتري کے معيار کي صحيح شناخت ( کہ جو ايک باايمان معاشرہ کے لئے ضروري ہے ) کا حکم کيا گيا ہے .
٤) اس سورہ ميں اسلام و ايمان ميں فرق ، پرھيزگاروں کا درجہ بلند ، پسنديدہ چيز تقوائے الٰہي، کفر وفسق سے نفرت اور عدالت و انصاف کو اسلامي معاشرہ کا محور قرار ديا گيا ہے .
٥) اس سورہ ميں اسلامي معاشرہ کو خدا کا ايک احسان کہا گيا ہے کہ جو عاشق اور محب رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم ہے کہ جس رسول کے ذريعہ اسکي ہدايت ہوئي ہے . اسلامي معاشرہ ہرگز اپنے ايمان کو خدا اور رسول پر منت و احسان نہيں سمجھتا .
٦ ) اس سورہ ميں اس بات کي طرف اشارہ کيا گيا ہے کہ اسلامي معاشرہ ميں تمام افراد کے لئے ضروري ہے کہ وہ رسول کے تابع ہوں اور ہرگز اس بات کي توقع نہ رکھيں کہ رسول انکي اتباع کرے .
يٰا يُّھَا الَّذين آمَنُوالا تُقَدّمُو ا بين يَدَي اللّٰہ ورسولہ واتَّقوااللّٰہ انّ اللّٰہ سميع عليم. (
حجرات:١)
اے ايماندارو! خدااور اسکے رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے سامنے کسي بات ميں آگے نہ بڑھ جايا کرو ، اور خداسے ڈرتے رہو ، بيشک خدا بڑاسننے والا واقف کار ہے .
نکات :
يہ آيت بہت سي خطاؤں اور لغزشوں کي طرف متوجہ کرتي ہے . اس لئے کہ کبھي اکثريت کي خواہشات کے مطابق، مادي و ظاہري نظاروں سے فريب کھا کر قياس ، نئي ا ور جديدفکر کا خيال ، فيصلہ ميں جلدي ، آزاد فکري کے سہارے اس قسم کي بات کرتا ، لکھتا ، نيز اس قسم کے کام انجام ديتا ہے کہ انسان اس بات سے بھي غافل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا اور رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي بيان کي ہوئي حدود سے تجاوز کر چکا ہے . جيسا کہ بعض افراد عبادت ، يقين ، زھد و تقويٰ و پرہيز گاري ، اور سادہ زندگي کے خيال سے خد ا اور رسول صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم  کي حدود سے آگے بڑھنے کي کوشش کرنے لگے . جيسا کہ کہاوت ہے ديگ سے زيادہ چمچہ گرم.
يہ آيت اس بات کي خواہاں ہے کہ انسان کو فرشتہ صفت بنا ديا جائے .
اس لئے کہ قرآن فرشتوں کے بارے ميں فرماتا ہے :  لا يسبقونہ بالقول وھم بامرہ يعملون
(کلام خدا پر سبقت نہيں کرتے اور فقط اسکے امر کے مطابق عمل کرتے ہيں .)
قرآن نے سبقت اور پيش قدمي کے موارد و مقامات کو بيان نہ کيا تا کہ ہر قسم کي پيش قدمي ، اعتقادي ، علمي ، سياسي ، مالياتي و اقتصادي نيز قول و فعل ميں تجاوز سے روکا جاسکے .
بعض اصحاب نے رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے مقطوع النسل ہونے کي خواہش کا اظہار کيا تاکہ اس سبب انہيں عورت کي ضرورت پيش نہ آئے اور وہ ہر وقت اسلام کي خدمت کیلئے حاضر رہيں . حضرت رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے انہيں اس برے کام سے روک ديا . جو شخص خدا اور رسول صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے سبقت کرتا ہے . وہ اسلام کے نظام ميں خلل اور معاشرتي بد نظمي کا موجب ہے . گويا قانون اور نظام الٰہي کو کھيل تماشہ سمجھ کر اس ميں اپني مرضي چلاتا ہے .
پيغامات :
١)۔ احکامات کو عملي جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے ضروري ہے کہ مخاطب کو روحي طور پر آمادہ کيا جائے .
جملہ ’’يا ايھا الذين آمنوا ‘‘مخاطب کي شخصيت کا اعتراف کرتے ہوئے . اسکے خدا سے تعلق کو بيان کرتا ہے . جو در اصل اسکے عمل کے لئے مقدمہ ہے .
٢)۔ جس طرح خدا اور رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم پر سبقت کي ممانعت ايک ادبي فرمان ہے اسي طرح يہ آيت بھي اپنے مخاطب کو ايک خاص ادب کے ساتھ آواز دے رہي ہے  يا ايھا الذين آمنو ا
٣)۔ بعض افراد کا ذوق ، عادات ، معاشرتي رسم و رواج ، اور بہت سے قوانين کہ جن کي بنياد قرآن اورحديث پر نہيں ہے اور نہ ہي عقل و فطرت سے ان کا کوئي تعلق ہے .ايک طرح کي خدا اور رسول پر سبقت لے جانے کے مترادف ہے . لا تقدموا ...
٤)۔ خدا کي حلال کردہ نعمتوں کو حرام کرنا يا حرام کو حلال کرنا بھي خدا اور رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم پر سبقت لے جا نا ہے . لا تقدموا ...
٥)۔ ہر طرح کي بدعت، مبالغہ آرائي ،بے جا تعريف و مذمت،بھي سبقت لے جانا ہے۔ لا تقدموا ...
٦)۔ ہماري فقہ اور کردار کا سر چشمہ قرآن اور سنت کو ہونا چاہئيے.
٧)۔ خدا اور رسول پر سبقت لے جانا تقويٰ سے دوري ہے.جيسا کہ اس آيت ميں خدا فرماتا ہے.سبقت نہ لے جاؤ اور تقويٰ اختيار کرو.
٨)۔ ہر آزادي اور ترقي قابل تعريف نہيں ہے. لا تقدموا ...
٩)۔ فريضہ کي ادائيگي کے ليے دو محکم چيزوں ايمان اور تقو يٰ کا ہونا ضروري ہے.
١٠)۔ وہ کلام کہ جس سے معاشرہ کي اصلاح ہو وہي اہميت کا حامل ہے.
١١)۔ حکم رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم حکم خدا ہے ، اسکي بے احترامي خدا کي بے احترامي ہے، اور دونوں سے سبقت لے جانے کي ممانعت ہے.
١٢)۔ انسان کا ظاہر اسکے باطن کا آئينہ دار ہو.
١٣)۔ وہ لوگ جو اپني خواہشات اور ديگر وجوہات کے باعث خدا اور رسول
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم پر سبقت کرتے ہيں .ان کے پاس نہ ايمان ہے اور نہ ہي تقويٰ .
١٤)۔اپنے غلط عمل کي توجيہ نہيں کرني چاہئے .
يا يھا الذين منوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبي ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تھبط اعمالکم و انتم لا تشعرون ۔ (حجرات :٢)
اے ايمان والو ! خبر دار اپني آواز کو نبي
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز ميں باتيں بھي نہ کرنا جس طرح پس ميں ايک دوسرے کو پکارتے ہو کہيں ايسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائيں اور تمہيں اس کا شعور بھي نہ ہو ۔
نکات :
١) گذشتہ آيت ميں رسول خدا
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے گے بڑھنے کي ممانعت کي ہے اور اس آيت ميں آپ سے گفتگو کے طريقہ کو بيان کرتے ہوئے ان کے احترام کو ملحوظ نظر رکھنے کا حکم ديا گيا ہے ۔
٢) خلوص عمل کي حفاظت خود عمل سے کہيں بہتر ہے ۔
ہمارے اعمال کبھي ابتدا ہي سے خراب ہوتے ہيں اس لئے کہ انکا مقصد ريا کاري اور خودنمائي ہوتا ہے ۔ اور کبھي دوران عمل عجب اور غرور پيدا ہوجانے سے ضائع ہو جاتے ہيں ، يا پھر عمل انجام دينے کے بعد بعض چيزوں کے سبب سب کيا کرايا اکارت ہو جاتا ہے ۔ اسي لئے قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے : ’’  کہ جو شخص بھي اپنے خالص نيک عمل کے ساتھ اپنے پروردگار کي بارگاہ ميں يا تو اسے اس کا دس گنا اجر ديا جائے گا ‘‘ ۔ يہ نہيں کہا گيا کہ جو شخص نيک عمل انجام دے گا اسے اس کا دس گنا اجر ديا جائے گا اس لئے کہ عمل کے انجام دينے اور اسے قيامت تک خالص محفوظ رکھنے ميں بہت فاصلہ ہے ۔
٣) قرآن نے حبط اعمال کے سلسلہ ميں کفر و شرک کو اس کا سبب قرار ديا ہے اور کبھي رسول خدا
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے بے ادبي کو ، اس سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے کہ رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے بے ادبي، کفر و شرک کے مساوي ہے ۔ اس لئے کہ دونوں کا نتيجہ اعمال کا برباد ہو جانا ہے ۔
٤) بعض صحابي ، رسول خدا
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے بلند واز سے باتيں کرتے تھے تو آپ اس لئے کہ کہيں يہ چيز ان کے اعمال کي بربادي کا سبب نہ بن جائے ۔ ان سے بلند واز سے گفتگو کرتے تھے ۔
٥) رسول خدا
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے سامنے اونچي واز سے بات کرنا اعمال کي بربادي کا سبب ہے ليکن اگر کوئي پيغمبرصلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کو نہيں پہچانتا تو وہ اس قانون کي گرفت سے باہر ہے اس لئے کہ اہانت کے لئے علم و گاہي اور قصد و ارادہ شرط ہے ۔
٦) ’’ ان تحبط اعمالکم و انتم لا تشعرون ‘‘ تمہارے اعمال لا شعوري طور پر برباد ہو جائيں گے ۔
يہ جملہ ايک نکتہ کي طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ يہ کہ فات اور برے اثرات کا مرتب ہوناجاننے اور نہ جاننے سے وابستہ نہيں ہے ۔
جيسا کہ اگر انسان شراب پي لے تو مست ہو جائے گا، چاہے وہ اپنے خيال ميں يہ سمجھے کہ اگر اس نے پاني پیا ہے ۔ اسي طرح گناہ بھي ، قحط ، زلزلہ ، عمر کي کوتاہي ، ذلت اور رسوائي کا سبب بنتا ہے ۔ اور انسان اس سے بے خبر ہوتا ہے لھٰذا پيغمبر اسلام
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے بے ادبي بھي اعمال کي بربادي کا سبب ہے چاہے انسان اس کے منفي ثار سے بے خبر ہو ۔
پيغامات :
١) لوگوں کو ادب سکھانے کے لئے ضروري ہے کہ ہم خود بھي ان سے مودبانہ طور پر پيش ئيں (اس يہ کريمہ ميں خدا وند متعال نے لوگوں سے ياايھا الذين منوا کہہ کر خطاب کياہے )۔
٢) امت اسلامي کا رہبر،حقوقي اورمعنوي اعتبار سے بلندمقام پرفائزہوتاہے۔ اس لئے امت کواس بات کاخيال رکھناچاہئے کہ گفتگوکرتے وقت حضرت کي آواز پر اپني آواز بلند نہ کرے اور اگر حضرت خاموش ہوں اورہم بات کررہے ہوں توايسي صورت ميں بھي ہماري آواز اونچي نہ ہونے پائے ۔
٣) بزرگوں کے احترام کاحکم خود انکے علاوہ کسي دوسرے کي زبان سے زيادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس آيت ميں پيغمبر اسلام 
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے يہ نہيں کہا کہ مجھ سے زيادہ بلندوازسے باتيں نہ کرو بلکہ یہ خداہے جو حکم دے رہاہے کہ جب رسول اسلام
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے گفتگو کرنا بھي ہوتوہستہ اوردھيمي واز ميں گفتگو کرو۔
انسان کامنصب ومقام اسکے عمل پراثرانداز ہونا چاہئے۔مومن کي طرف سے پيغمبراسلام  کي شان ميں گستاخي و جسارت ايک خاص اثررکھتي ہے يا ايھا الذين منوا....ان تحبط اعمالکم
٥) انسان کبھي نادانستہ طور پر اپنے پير پرخود کلہاڑي مار ليتاہے ۔ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون
روايات کي روشني ميں نيک اعمال کي بربادي کے چندسبب:
١) ائمہ معصومين اوراہل بيت علیھم السلام سے دشمني وعداوت
٢) نماز کو بغير کسي عذر کے ترک کرنا۔

٣) پيغمبراسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا کہ اگرکوئي شخص مردہ کوامانت کے ساتھ غسل دے توميت کے ہر بال کے غسل کے عوض خدااسے غلام زاد کرنے کے برابرجزائے امانت عنایت فرمائيگاپوچھاگيايارسول اللہ يہ امانت کے ساتھ غسل دينے سے کيامرادہے فرمايا:کہ غسل دينے والاميت کي شرمگاہوںکو پوشيدہ رکھے۔ورنہ اسکاسارااجرتباہ و برباد ہوجائے گا اور وہ دنياو آخرت ميں ذليل وخوار ہوگا۔
ومن يکفربعدالايمان فقدحبط عملہ  جوبھي ايمان کوچھوڑ کرجائے تواسکے اعمال تباہ وبرباد ہو جائيں گے ۔
امام محمد باقر ٴ نے اس يت کے ذيل ميں فرمايا:  کہ قرآن ميں ايمان سے مراد علي ابن ابي طالب علیہ اسلام ہيں اگر کوئي انکي ولايت کا انکار کرے تو اس کے سارے اعمال برباد ہوجائيں گے ۔
٥) جو شخص اپنے وہم و خيال ( بغير علم و حجت شرعي ) کي بناء پر عمل انجام ديتا ہے تواس کا عمل برباد ہو جاتا ہے۔
الذين يغضّون اصواتھم عند صوت رسول اللہ اولٰئک الّذين امتحن اللہ قلوبھم للتّقويٰ لھم مغفرۃ و اجر عظيم۔
ترجمہ: بيشک جو لوگ رسول اللہ
صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم  کے سامنے اپني آواز کو دھيما رکھتے ہيں يہي وہ لوگ ہيں جنکے دلوں کو خدا نے تقويٰ کے لئے آزماليا ہے۔اور ان ہي کے لئے مغفرت اور اجر عظيم ہے۔
نکات :
١۔
غض کے معنيٰ نيچا رکھنا اور دھيمي آواز ميں بات کرنا ہے۔ کہ جس سے انسان کے ادب ، تواضع، وقار اور مہر و محبت کا پتہ چلتا ہے۔
٢۔ قرآن کي اس آيت ميں رب العزت کا ارشاد ہے: خداوند متعال ان افراد کو آزما تا ہے جو احترام رسالتماب ميں اپني آوازوں کو بھي رسول اسلام(ص) کے سامنے بلند نہيں کرتے ۔ اور يہ بات واضح ہے کہ خداوندمتعال کا يہ آزمانا اپني اطلاع اور اپنے علم ميں اضافہ کيلئے نہيں کيونکہ وہ ہر چيز سے آگاہ ہے۔ بلکہ اس آزمائش کا مقصد يہ ہے کہ انسان اپني تمام تر صلاحيتوں کو بروئے کار لا کر ثابت قدمي کا مظاہرہ کرے اور خدا کے اجر کا مستحق قرار پائے۔
اس لئے کہ خدا کي طرف سے جزا ء و سزا اسکے علم کي بنياد پر نہيں ہے ، بلکہ انسان کے عمل کي بنا پر ہے۔ اسکا مطلب يہ ہے کہ اگر خدا کو اس بات کا علم ہے کہ فلاں شخص مستقبل ميں معصيت کار ہوگا تو وہ ہرگز اسے اس وقت سزا نہيں ديتا ہے۔ جب تک کہ وہ شخص معصيت کا مرتکب نہ ہوجائے۔ جيسا کہ يہ بات قابل توجہ ہے کہ انسان بھي محض اپنے علم کي بنياد پر کسي مزدور کو اسکي مزدوري نہيں ديتا۔ مثال کے طور پر اگر ہميں يہ علم ہوکہ فلان درزي ہمارا لباس سي دیگا تو ہم محض اس بات پر اسے مزدوري نہيں ديتے ہيں۔ بلکہ جب وہ لباس سي ديتا ہے تو پھر اسے اسکي مزدوري دي جاتي ہے۔ لہذا آيات و روايات ميں امتحان اور آزمائشِ خدا سے مراد انسان سے عمل کا صادر ہونا ہے۔ کہ جسکے بعد وہ سزا يا جزا کو پاتا ہے۔ البتہ بيان امتحان کا تعلق دل سے ہے۔اس لئے بعض افراد ايسے ہيں کہ جو ظاہري طور پر مودب و متواضع ديکھائي ديتے ہيں جبکہ قلباً متکبر ہيں۔
٣۔ خداوند متعال نے اپني جزا کو کريم، عظيم، کبير، غير ممنون(دائم)، نعم اجر( اچھا اور بہترين) جيسي صفات سے متصف کيا ہے کہ جو اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ خداوند عالم کي طرف سے جزا اسکي رحمت اور اسکے لطف کا نتيجہ ہے۔
پيغامات:
١۔ گناہ کار کي سرزنش اور نيک افراد کي حوصلہ افزائي کرني چاہئے۔
گذشتہ آيت ميں ان افراد کي سرزنش کي گئي کہ جو پيغمبر ٴکي بزم ميں اونچي آواز سے باتيں کيا کرتے تھے۔ جبکہ مندرجہ بالا اور اسکے بعد والي آيات ميں مودب افراد کي حوصلہ افزائي کي گئي ہے۔
انّ الّذين يغضّون اصواتھم عند رسول اللہ اولٰئک الّذين امتحن اللہ قلوبھم للتّقويٰ لھم مغفرۃ واجر عظيم(سورہ حجرات٣) جي ہاں سرزنش اور حولہ افزائي دونوں کا ايک ساتھ ہونا ضروري ہے۔
٢۔ انسان کا ظاہري ادب اسکي قلبي طہارت کي نشاندھي کرتا ہے۔ الّذين يغضّون ...امتحن اللہ قلبھم للتّقويٰ يعني وہ لوگ جو دھيمي آواز سے باتيں کرتے ہيں پاکيزہ و طاہر دل کے مالک ہيں۔
٣۔ اگر چہ اب ہم پيغمبر اکرمٴ کي ظاہري بزم سے محروم ہيں ليکن ادب سے پيش آنے کا حکم آپکي قبر مطہر اور آپکے جانشين کے ساتھ ابھي تک ويسے ہي باقي ہے۔
٤۔ عارضي اور وقتي ادب ہرگز استوار اور محکم تقويٰ پر دليل نہيں ہے، ’’يغضّون اصواتھم‘‘ آيت ميں فعل مضارع کا صيغہ استعال ہوا ہے يعني متقي کے لئے ضروري ہے کہ وہ ہميشہ با ادب اور مہذب ہو۔
٥۔ جہاں بھي قرآن ميں لفظ’مغفرت ‘اور لفظ ’اجر‘، استعمال ہوا ہے۔ پہلے لفظ ’مغفرت‘ اور پھر لفظ اجر آيا ہے ۔ تا کہ انسان اس طرف متوجہ رہے کہ جب تک گناہوں سے پاک نہيں ہوگا خدا کے اجر کا مستحق قرار نہيں پا سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے