قرآن ميں اھليبت علیھم السلام کا تذکرہ
سيد محمد ذکي حسن

 

خلاق کائنات نے بشري ہدايت کي ذمہ داري اپنے اوپرلي ہے ۔(١) يہي وجہ ہے کہ زمين کبھي بھي نمائندہ الٰہي سے خالي نہيں رہي ۔ساتھ ہي ساتھ پروردگارعالم نے بندوںکواپنے نمائندوں سے شنا بھي کراياہے تاکہ لوگ ان کے ہاديوں کوپہچان کر ان سے پيغام الٰہي حاصل کرسکيں۔
خداوندکريم نے سلسلہ ہدايت کونبوت و رسالت کي شکل ميںاسي لئے شروع کياتاکہ بني آدم کوفلاح ونجات سے ہمکنارکياجاسکے اور آخري نبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے اس دنياسے رخصت ہوجانے کے بعد بھي سلسلہ ہدايت کو نہيں روکا بلکہ امامت و ولايت کي شکل ميں اسے جاري رکھا۔
خدائے سبحان نے اہل بيت اطہار علیھم السلام کو انسانوں کا ہادي و رہنما قرار ديا ہے اور قرآن ونبي اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعدد مقامات پران کو پہچنوايا ہے ۔ آئيے ديکھيں کہ قرآن مجيدنے ان مقدس ہستيوں کا تعارف کس طرح کرايا ہے :
’’اہل بيت علیھم السلام ‘‘عربي زبان کاایک مشہور کلمہ ہے جودولفظوں’اہل‘اور’بيت‘ سے مل کر بنا ہے ۔ان دونوں لفظوں کے مستقل معني ہيں۔لفظ اہل کو عرب متعددطريقوں سے استعمال کرتے ہیں جيسے اہل الکتاب ،اہل الاسلام،اہل المحبۃ ، اہل الامر۔لفظ اہل کے معني صاحب کے ہوتے ہیں۔ او ر اس کا استعمال ان جگہوں پرہوتاہے جہاں مضاف کا مضاف اليہ سے بہت قوي رشتہ ہوتاہے ۔اسي طرح اہل کتاب کے معني صاحب کتاب اوراہل اسلام کے معني صاحب اسلام ہوتاہے ۔
قرن مجيدنے اہل بیت علیھم السلام کا ذکرسورہ احزاب کي تيتسويں آیت ميں کيا ہے ، جس ميں خطاب توازواج پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شروع ہواہے مگرپھرکلمہ اہل بیت علیھم السلام کواستعمال کرکے يت کے دوسرے حصے کواہل بيت اطہار سے مخصوص کردیاگیاہے ۔ ارشادہوتاہے :
وقرن في بيوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھليۃالاوليٰ واقمن الصلوۃ و تين الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ انما يريد اللہ ليذھب عنکم الرجس اھل البیت و يطھرکم تطھيرا (٢) (اوراپنے گھروں ميں بيٹھي رہو اورپہلي جاہليت جيسابناو سنگار نہ کرواورنمازقائم کرو اور زکوۃ ادا کرواوراللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کي اطاعت کرو۔بس اللہ کاارادہ يہ ہے اے اہل بيت کہ تم سے ہربرائي کو دور رکھے اور اس طرح پاک وپاکيزہ رکھے جوپاک وپاکيزہ رکھنے کاحق ہے ) اس يہ کريمہ کے سلسلے ميںدواحتمال ظاہرکئے جاتے ہیں۔ پہلا احتمال يہ ہے کہ اس يت سے اہل بيت اطہار (حضرت علي ٴ حضرت فاطمہ  اوران کے معصوم فرزند ) مراد ہيں ۔ دوسر ا احتمال يہ ہے کہ اس يت کامصداق ان بزرگ ہستیوںکے علاوہ ازواج پيغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھي ہيں۔تمام شيعہ مفسرين اور بعض سني علماء کے مطابق آيت کے دوسرے حصے کامصداق فقط اہل بيت ?ہيں۔ اس سلسلے ميں چند قرينوں کاذکرکياجاتاہے کيونکہ اگرکسي شخص کوکسي لفظ ياکلمہ کے معني ميںشبہ پیدا ہو رہا ہو تو موردنظرمعني کوثابت کرنے کيلئے قرینہ کلام کوبيان کيا جاتاہے ۔

 يہ قرینے ملاحظہ ہوں:
(١)سب سے پہلے قرینہ وہ ’’الف لام ‘‘ ہے جولفظ’’بیت‘‘پرداخل کياگياہے ۔ (البيت) يہاں تمام مفسرين نے لکھاہے کہ يہ الف لام عہد کیلئے استعمال ہواہے ۔يعني اس معني ميںاستعمال ہواہے جومتکلم اورمخاطب کے نزديک رائج اورثابت ہے ۔ اس طرح اہل بيت ?سے مراد خاص گھر والے ہیں۔

اب سوال يہ پیداہوتاہے کہ يہ خاص گھر کون ساہے ۔ازواج پيغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاياحضرت فاطمہ زہرا  کا۔ليکن يہ سب پربات واضح ہے کہ ازواج کے پاس ايک گھرنہيں تھا بلکہ کئي گھرتھے ۔ کيونکہ مفسرين کے مطابق يہ يت مدينہ ميںنازل ہوئي ہے اور وہاں ہر زوجہ کااپنا گھر تھا ۔ اسي وجہ سے يت کے پہلے حصہ ميںحکم ہوا’’وقرن في بيوتکن ‘‘ (اور اپنے گھرميں بيٹھي رہو)اس کے بعدوالے حصے ميں لفظ’’اھل بيت‘‘ استعمال ہو ا ۔ اس سے صاف ظاہرہے کہ يہ بيت ان بيوت سے مختلف ہے ،کيونکہ اگرانہي گھروںميںسے ايک ہوتا توپھرفقط ايک ہي گھروالوںکے لئے حکم طہارت مزيد اختلاف کا باعث بن جاتا۔لہٰذايہ بات روشن ہے کہ يہاں بيت سے مرادشہزادي دوعالم کا گھر ہے اور’’اہل بيت ‘‘سے مرادبي بي دوعالم کے گھروالے ہيں۔
(٢)دوسرے قرينے کے بيان سے قبل اس بات کاواضح کرديناضروري ہے کہ عربي زبان ميں گفتگو کے لئے چودہ صيغے ہوتے ہیں جن ميں سے چھ صيغے ایسے ہوتے ہیں جوخواتین سے مختص ہيں اوردوصیغے مرد وعورت کے درميان مشترک ہیں۔اسي طرح اس زبان کے خاصيت يہ بھي ہے کہ ايک سے زائدکوجمع نہيں سمجھاجاتابلکہ اگردولوگ ہوں تو ’’ تثنيہ ‘ ‘ کا صيغہ اوراگرتین يااس سے زيادہ ہوں تو اس کوجمع شمار کياجاتاہے ۔اسي طرح عربي زبان ميں جمع مونث (عورتوں)کاصيغہ وہاں استعمال ہوتاہے جہاں اکثریت عورتوں کي ہواورجمع مذکر (مردوں ) کاصيغہ بھي وہاں استعمال ہوگاجہاںياتوسب ہي مرد ہوں يا پھراکثریت مردوں کي ہو۔اس وضاحت کي روشني ميںدوسراقرینہ يت کي ضميريںہيں۔يت کے پہلے حصے ميں جيساازواج کا ذکر ہے تووہاںجمع مونث (قرن ،بيوتکن ،تبرجن ،اقمن ، تين،اوراطعن)کے صیغے استعمال ہوئے ہیں ليکن جب اس يت کے دوسرے حصے کي طرف توجہ کرتے ہیںتووہاںجمع مذکر (عنکم ،اور يطھرکم ) کاصیغہ استعمال ہواہے ۔اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ اگران سب ضميروںسے ازواج پيغمبر مراد ہيں تو پھريہ ضمیرکابدل جاناکيامعني رکھتاہے ؟اس کے معنے يہ ہیںکہ عنکم سے مراد وہ جماعت ہے جس ميں يا تو سب ہي مردہوںيا پھراکثرتعداد مردوں کي ہو ۔ اس صورت ميں ازواج کا اس ضميرکامخاطب قرار پانا محال ہوجاتاہے اورفقط اہل بيت اطہار  ہي آیت کے اس حصے کامخاطب قرارپاسکتے ہیں۔
(٣) تیسراقرینہ يہ ہے کہ اس سورے ميںوہ احکام جو ازواج پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعلق ہیں وہ ٢٨ويں آيت سے شروع ہوکر٣٤ ويں آیت پرختم ہوتے ہیں ۔اس بيچ وہ کلمات جوخطاب کے طور پراستعمال ہوئے ہیں ان ميں ايک دفعہ’’ ازواجک‘‘ (٣) (آپ کي بیویاں ) کہہ کرخطاب ہواہے اوردودفعہ ’’يٰانساء النبي ‘‘(٤) (اے نبي کي بيويوں )  کہہ کر گفتگو شروع ہوئي ہے ۔ان کلمات کے بعد ’’اہل بيت ‘‘ کا استعمال خود اعلان کررہاہے کہ اس کے مخاطب ازواج اورنساء سے ہٹ کر ہیں۔ کيونکہ اگراہل بيت ?سے نبي اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کي بيویاں مراد ہوتیں تو’’آپ کي بيوياں‘‘اور’’نبي کي بيويوں‘‘ ہي کي طرح يا’’پ کے اہل ‘‘ کہاجاتاياپھر’’نبي کے اہل‘‘ مگر لفظ اہل کونبي کي طرف اضافہ نہ کرکے ’بيت‘کي طرف اضافہ کياگیاہے جواس بات کي دليل ہے کہ اہل سے مرادازواج نہيں ہیں۔بلکہ فقط اہل بيت مراد ہیں۔
(٤)چوتھا اقرينہ يت ميں کلمہ ’’يريد اللہ ‘‘ (اللہ کا ارادہ ہے) کااستعمال ہے۔ يہ ارادہ چونکہ خداکي طرف منسوب ہے لہٰذااس کے بعدمعني بھي خداکي قدرت سے وابستہ ہيں۔اورجب خداکسي ذات کو نجاست اورگناہ سے دورکررہاہوتوپھراس حکم کے کيامعني ہیںکہ اے نبي کي بي بيوںتم جاہليت کي رسموںکواختيارنہ کروياحکم دیاجائے کہ گھروں ميں بيٹھي رہوياپھريہ کہاجائے کہ اگرتم سب بدکاري کي طرف جاوگي توسخت عذاب کي مستحق قرارپاوگي و۔۔۔ازواج پيغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کيلئے اس قسم کے احکام خود اس بات کي دليل ہیںکہ يت ميںذکرشدہ ارادہ خداان کوپاک وطاہررکھنے کے سلسلے ميںن ہيں ہے (اگرچہ پاک وطاہررہناخودان کے اختيار ميںہے اگرچاہيںتوخودکوگناہوںسے بچا کر طاہر ہوجائيں ) بلکہ يہ طہارت کاارادہ اہل بيت سے متعلق ہے ۔
ان قرینوں کي روشني ميںواضح ہو جاتا ہے کہ اس يہ مبارکہ کے دوسرے حصے سے فقط اہل بيت مرادہیں۔اس سلسلے ميںمزيدگفتگو ئندہ شمارے ميں ہوگي ۔
آخرميں رب کريم سے دعاہے کہ خداوندا ! ہميں اہل بيت کي ولايت ومحبت پرثابت قدم فرما اور آخرت ميں ہميں ان بزرگان کي شفاعت نصيب فرما۔ آمين ثم آمين ۔
حوالے :
(١)اسي بات کي طرف سورہ والليل کي بارہويں يت ميں يوں اشارہ ملتاہے ’’ان عليناللھديٰ ‘‘ (بيشک ہدایت کي ذمہ داري ہمارے اوپر ہے )
(٢)سورہ احزاب ٣٣(٣)سورہ احزاب ٢٨ (٤)سورہ احزاب ٣٠و٣٢