انسانوں
کي ايسي جماعت جو چند قوانين ، آداب
ورسوم اور خاص نظام زندگي کي حامل ہو اور انہي خصوصيات کي بنياد پر
باہمي تعلقات کو استوار رکھتے ہوئے زندگي گذارتي ہو ايک معاشرہ
تشکيل ديتي ہے،مشترک معاشرتي ضرورتوں اور زندگي سے متعلق خصوصي
تعلقات نے نوع انساني کو ايک دوسرے سے اس طرح منسلک کر ديا ہے جيسے
سفر ميں مسافر ہوتے ہيں کہ ہر مسافر دوسرے مسافر سے اپني ہمدلي ،
يک جہتي کا اظہار کرتا ہے يہي حال انساني روزمرہ زندگي کا بھي ہے
کہ ہر انسان کے لئے ضروري ہے کہ اپنے بارے ميں سوچے اور دوسروں کي
ضروريات،حقوق اور مشکلات کو نظرانداز نہ کر دے۔
قرآن کريم نے انسانوں کي اجتماعي زندگي سے متعلق ذمہ داريوں کي
اہميت کے پيش نظر انسان کي مکمل طور سے راہنمائي کي ہے ۔
يَٰا يُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقنٰکُم
مِّن ذَکَر ٍوَّ اُنثيٰ وَجَعَلنٰکُم شُعُوباً وَّ قَبَآئِلَ
لِتَعَارَفُوا اِ نَّ اَکرَمَکُم عِندَاللَّہِ اَتقٰکُم ّ
اے انسانو! ہم نے تمھاري تخليق مرد اورعورت سے کي ہے اور
تمھيں قوموں اور قبيلوں ميں بانٹا ہے تاکہ ايک دوسرے سے شناخت ہو،
بے شک اللہ کے نزديک وہي لائق تکريم ہے جو تم ميں سے زيادہ پرہيز
گار ہے (حجرات ١٣)
انساني معاشرہ کي اجتماعي زندگي ميں ہر انسان کي بہت سي ذمہ دارياں
ہوتي ہيں جن ميں سے کچھ کا تعلق اس کي ذات سے ہوتا ہے اور کچھ کا
تعلق معاشرے کے ديگر افراد سے ۔
انسان کو اس طرح پيدا کيا گيا ہے کہ وہ مختلف قوموں اور قبيلوں کي
صورت اختيار کرلے۔اگر سب انسان ايک جيسے،ايک ہي رنگ کے ہوتے تو ان
کي مثال کارخانے ميں ڈھلي ہوئي ايک ہي شکل کے مال کي طرح ہوتي پھر
تبادلہئ خيال، روابط، کام اور صنعتوں کے مبادلے کي بنياد پر قائم
انساني اجتماعي زندگي ممکن نہ ہوتي۔
قرآن کريم ميں ايک اور جگہ ارشاد ہوا ہے:
اَھُم يَقسِمُونَ رَحمَۃَ رَبَّکَ نَحنُ
قَسَمنَا بَينَھُم مَعِشَتَھُمِ فِي الحَيٰوۃِ الدُّنيَا وَ
رَفَعنَا بَعضَھُم فَوقَ بَعضٍ دَرَجٰتٍ لَّيَتَّخِذَ بَعضُھُم
بَعضاً سُخرِيّاً وَ رَحمَۃُ رَبَّکَ خَيرا مَّمَّا يَجمَعُونَ
کيا يہ لوگ رب کي رحمت کو تقسيم کرتے ہيں.ہم نے وسائل اور
ذرايع معاش کو دينوي زندگي ميں ان کے درميان بانٹ ديا ہے اور بعض
کو بعض پر صلاحيتوں اور وسائل کے اعتبار سے برتري دي ہے تاکہ اس کے
ذريعے سے بعض کو مسخر کر سکيں اور يقينا آپ کے پروردگار کي رحمت اس
چيز سے بہتر ہے جسے وہ جمع کر رہے ہيں (زخرف٣٢)
اللہ نے نوع بشر کو صلاحيتوں اورجسماني، روحاني،عقلي اور جذباتي
وسائل کے اعتبار سے مختلف خلق کيا ہے اور بعض کو بعض خوبيوں ميں
دوسروں پر درجے کے اعتبار سے برتري دي ہے اور ان بعض کو کسي اور
خوبي ميں دوسروں پر سبقت بخشي ہے۔
لہٰذا ايسي قدروں کے احياء کي بہت زيادہ ضرورت ہے جو معاشرے کو
مضبوط بنيادوں پر استوار کر سکے اور يہ قدريں ہميں قرآن کريم ميں
پوري آب و تاب کے ساتھ نظر آتي ہيں۔لہٰذا ہم آيندہ کے شماروںميں
آيات قرآني کي روشني ميں ان اعلٰي قدروں ميں سے بعض کو بيان کريں
گے جو ہمارے معاشرے کو صحيح اور حقيقي اسلامي معاشرہ بنا سکتي ہيں۔