قرآن کريم کے انساني زندگي پر اثرات

ڈاکڑ محمد علی رضائی  مترجم : سیدعلی عباس نقوی

 

قرآن کريم مختلف جہات سے مثلا : ًقرآت، حفظ ، فہم اور عمل ميں انساني زندگي پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے يہ اثرات انسان کي انفرادي اور اجتماعي زندگي ميں موثر واقع ہوتے ہيں .يہاں ہم ان پر ايک سرسري نظر ڈاليں گے .
الف : انسان کي انفرادي زندگي پر قرآت کے اثرات :
(١)
ياد خدا قاري قرآن اپنے محبوب دوست کي ياد سے تلاوت کا آغاز کرتا ہے . يعني بسم اللہ الرحمن الرحيم کہتا ہے اور يہي ذکر اس کو خدا وند متعال کي طرف متوجہ کرتا ہے . يوں قاري قرآن خدا سے کبھي غافل نہيں ہوتا اور يہ مطلب اس کي روح کي ارتقائ کا باعث بنتاہے .
(٢) اطاعت (حق ) کے دروازوں کا کھلنا امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :
افتحواابواب الطاعۃ بالتسميۃ
يعني اطاعت کے دروازوں کو تسميہ (بسم اللہ پڑھنا ) کہنے سے کھولو پس قرآن کي تلاوت کے فوائد اور اثرات ميں سے ايک تلاوت کے آغاز مين بسم اللہ پڑھنے سے اطاعت (حق) کے دروازے کھل جاتے ہيں .
(٣) معصيت (گناہ) کے دروازوں کا بند ہونا نيز امام صادق عليہ السلام سے ايک حديث ميں يوں آيا ہے
اغلقواابواب المعصيۃبالاستعاذہ  ( سفينۃالبحار ،شيخ عباس قمي،ج٢،ص٤١٧)
يعني معصيت (گناہ) کے دروازوں کو استعاذہ (اعوذباللہ پڑھنا ) کہنے سے بند کرو. در نتيجہ قرآن کريم کي تلاوت سے پہلے اگر اعوذبااللہ پڑھي جائے تو معصيت کے دروازے بند ہوجاتے ہيں .
(٤) تلاوت سے پہلے اور بعد ميں دعا کي توفيق تلاوت قرآن کے آداب ميں سے ايک ، تلاوت سے پہلے اور بعد ميں دعا کرنا ہے.دعا کے معني خداوند متعال سے طلب کرنے اور پکارنے(يعني راز ونياز کرنے) کے ہيں .البتہ خود دعا ايک توفيق الہي ہے دعا کے ذريعہ انسان خدا سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس سے اپني حاجات طلب کرتا ہے جس کا نتيجہ استجابت(دعا کي قبوليت) کي صورت ميں ہوتا ہے .يعني خداوند اس کي دعا سنتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے.يہ چيز اس کي مادي اور معنوي زندگي ميں ترقي کا باعث بنتي ہے.
(٥) قاري قرآن کا انعام امام صادق عليہ السلام پيامبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے روايت نقل فرماتے ہيں :
الفاتح الخاتم الذي يفتح القرآن و يختمہ فلہ عند اللہ دعوۃ مستجابۃ   (بحار الانوار ، ج٨٩،ص٢٠٤)
يعني جو شخص بھي قرآن کھولے اور اس کو ختم کرے تو خدا کے نزديک اس کي ايک دعا قبول ہوتي ہے .  جي ہا ں دعا کا قبول ہونا ہي قاري قرآن کا انعام ہے .
(٦) قرآن کريم ايمان کي افزايش کاباعث بنتا ہے سورہ توبہ کي ايک سو چوبيس آيت ميں ارشاد ہوتا ہے:  واذا ما انزلت سورۃ فمنھم من يقول ايکم زادتہ ھذہ ايماناًفاما الذين آمنو افزادتھم ايماناً وھم يستبشرون
(يعني : اور جب کوئي سورہ نازل ہوتا ہے تو ان ميںسے بعض يہ طنز کرتے ہيں کہ تم ميں سے کس کے ايمان ميں اضافہ ہو گيا ہے تو ياد رکھيں کہ جو ايمان والے ہيں ان کے ايمان ميں اضافہ ہوتا ہے اور وہ خوش بھي ہوتے ہيں .)
ايک اور جگہ ارشاد ہوا ہے .
واذاتليت عليہم آيا تہ زادتہم ايماناً .(سورہ انفال:٢)
يعني اوراس کي آيتوں کي تلاوت کي جائے تو ان کے ايمان ميں اضافہ ہو جائے .
(٧) قرآن کريم شفائ بخش ہے قرآن کريم پوشيدہ دردوں کي دوا ہے . انسان کے روحي امراض کا علاج قرآن مجيد سے ہي ہے . سورہ فصلت کي ٤٤ويں آيت ميں ارشاد ہوتا ہے :
قل ھوللذين آمنوا ھدي وشفاء
يعني يہ کتاب صاحبا ن ايمان کے لئے شفائ اور ہدايت ہے . اصولي طور پر سب سے پہلے جسے قرآن کي شفاء حاصل ہوتي ہے وہ قاري قرآن ہي ہے .
(٨) رحمت الٰہي کا نزول قاري قرآن کريم پر رحمت الٰہي کي بارش ہوتي ہے .
(٩) ہدايت الٰہي قرآن کريم ہدايت کي کتاب ہے . ہدايت الٰہي ان افراد کو شامل حال ہوتي ہے جو متقي ، پر ہيز گار اور قرآن کريم کي زيادہ تلاوت کرنے والے ہوں .
قل للذين آمنوا ھدي وشفاء (فصلت ٤٤)
البتہ ہدايت کے درجات ہيں . ہر شخص اپني استعداد اور ظرفيت کے مطابق قرآن کريم کي لا زوال ہدايت سے مستفيد ہو سکتا ہے .
(١٠) باطني اور ظاہري پاکيزگي جب قاري تلاوت کے دوران اس کے باطني آداب بجا لاتا ہے تو يہ عمل اس کي روح کے ارتقائ اور باطني پاکيزگي کا سبب بنتا ہے . اسي طرح جب قاري قرآن تلاوت سے پہلے وضو يا غسل انجام ديتا ہے . يعني بدن کي (ظاہري ) آلودگي کو دور کرتا ہے تو اس کے نتيجہ ميں انسان ميں ايک خاص قسم کي نورانيت پيدا ہو تي ہے جو باطني طہارت کا سبب بنتي ہے اور يوں اس کي انفرادي زندگي پر تلاوت قرآن کے اثرات مرتب ہوتے ہيں .
(١١)صحت وسلامتي جب قاري قرآن تلاوت کے مقدمات يعني مسواک کرتاہے ، وضو يا غسل انجام ديتاہے
اور پاکيزہ کپڑے زيب تن کرتا ہے تو وہ در حقيقت اپني صحت و سلامتي پر توجہ بھي دے رہا ہوتا ہے .
(١٢) اہل قرآن ہونا قرآن کريم کي تلاوت کرنے اوراس سے مانوس ہونے کے سبب انسان پر اس کے اثرات مترتب ہوتے ہيں کہ جس کے نتيجہ ميں وہ ايک قرآني انسان بن جاتا ہے . يعني اس ميں قرآني اخلاق ، عقائد اور طہارت پيدا ہو جاتي ہے ، دوسرے لفظوں ميں وہ قرآني رنگ و روپ ميں ڈھل جا تا ہے اور اہل قرآن ميں سے ہو جاتا ہے . اور يوں وہ مظہر قرآن بلکہ مجسم قرآن کے عالي مراتب پر فائز ہو جاتا ہے .
(١٣) قوہ تفکر کا ارتقاء جب انسان قرآن کي تلاوت کرتا ہے اور اس ميں غور وفکر کرتا ہے تو اس کے نتيجہ ميں آہستہ آہستہ اس (انسان ) کے اندر غوروفکر کرنے کي صلاحيت بڑھتي ہے . جس کے مثبت اثرات اس کي تمام زندگي کے شعبوں ميں خصوصاًعلمي ميدان ميں مرتب ہوتے ہيں .
(١٤) آنکھ کي عبادت پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے :
النظر الي المصحف يعني صحيفۃ القرآن عبادۃ (بحارالانوار ، ج٨٩، ص١٩٩)
يعني مصحف (قرآن ) کي طرف نگاہ کرنا يعني قرآن کے صفحہ پر نگاہ کرنا عبادت ہے . يہ عبادت سب سے زيادہ ان افراد کے شامل حال ہوتي ہے جو قرآن مجيد کي تلاوت کرتے ہيں .
(١٥) اولاد کي تربيت جب والدين قرآن کريم کي با قاعدگي سے گھر ميں تلاوت کرتے ہيں تو اس کے مثبت اثرات ان کے فرزندوں پر مرتب ہوتے ہيں يعني يہ عمل ايک قسم سے ان کي غير مستقيم طور پر تربيت کرنا ہے جس کے نتيجہ ميں وہ آہستہ آہستہ قرآني معارف سے آگاہ ہوتے ہيں .
(١٦) گناہوں کا کفارہ پيامبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے روايت نقل ہوئي ہے عليک بتلاوۃ القرآن فان قرائتہ کفا رۃ للذنوب (ميزان الحکمہ ج٨ ص٨١وبحارالانوار ج٩٢، ص١٧)
يعني قرآن کي تلاوت کرو چونکہ قرآن کي تلاوت گناہوں کا کفارہ ہے .
(١٧) جہنم کي سپر حديث نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں ہے کہ قرآن کي تلاوت آتش جہنم کي سپر اور عذاب الٰہي سے نجات کا ذريعہ ہے ۔ جي ہاں اگر کوئي شخص قرآن کريم کي تلاوت کرے اورا س پر عمل کرے تو اس کا راستہ جہنمي افراد سے الگ ہو جاتا ہے .
(٨١) خدا سے ہم کلام ہونا ہمارے آخري نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے منقول ہے :
اذا احب احدکم ان يحدث بہ فلينظر القرآن
يعني اگر تم ميں سے کوئي شخص بھي يہ چاہے کہ خدا سے ہم کلام ہو تو اسے چاہئے کہ قرآن کريم کي تلاوت کرے .
(١٩) تلاوت قرآن دلوں کو جلا بخشتي ہے .(٣)
(٢٠) قرآن کريم کي تلاوت کرنے سے زنگ آلود دل صاف وپاک ہو جاتے ہيں . (٤)
(٢١) قرآن مجيد کے پڑھنے سے انسان برائيوں سے دور رہتا ہے . (٥)(٣،٤،٥،)
عن رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : فان القرآن يحي القلب وينھي عن الفحشاء والمنکر والبغي (ميزان الحکمۃ ج٨ ص٨١)
جي ہا ں ! اگر انسان حقيقي معنوں ميں قرآن کريم کا قاري ہوا ور توجہ سے تلاوت کرے تو اس کا زنگ آلود دل صاف ہو جاتا ہے . اور اسي طرح اگر تلاوت کے بعد اس پر عمل کيا جائے تو اس کے نتيجہ ميں انسان برائيوں سے محفوظ ہو جاتا ہے .