جوان حافظ کل قرآن کریم

انٹرویو : سيد محمد حيدر نقوی

١۔ آپ کا نام؟
ج۔ سيد محمد حيدر نقوی ۔
٢۔ آپ کي عمر کتني ہے؟
ج۔ ٣٠ سال۔
٣۔ کيا آپ پورے قرآن کے حافظ ہيں؟
ج۔ جي ميں کل قرآن کا حافظ ہوں۔
٤۔ آپنے پورا قرآن کتنے دنوں ميں حفظ کيا ؟
ج۔ ميں نے پورا قرآن ايک ساتھ حفظ نہيں بلکہ شروع ميں ميں جب مدرسہ شہابيہ ميں تھا تو وہاں ميں نے آٹھ جز ئ حفظ کئے تھے اور پھر دروس کے زيادہ ہونے کے سبب سے ميںنے حفظ کرنا چھوڑديا ليکن پھر ايک سال کے بعد مرکز نے قرآن حفظ کرنے والوں کے لئے ايک اعلان کيا کہ جو لوگ قرآن حفظ کرنا چاہتے ہيں انہيں ايک ٹرم کي چھٹي دي جائے گي اور اگر وہ اس ميں کامياب ہوگئے تو مزيد ايک ٹرم کي اور چھٹي مل جائے گي۔ يوں بھي مزيد شوق پيدا اور کل ملا کر ميں تقريباً ڈيڑ سال ميں پورا قرآن حفظ کيا۔
٥۔ حفظ قرآن آپ کے لئے آسان تھا يا سخت؟
ج۔ نسبتاً آسان تھا اور اسکے کئي اسباب ہيں،سب سے پہلا تو خود ميرا شوق اور دوسرے ميرا خيال يہ تھا کہ اگر ميں قرآن کو حفظ کرلوں تو تبليغي امور ميں اس سے استفادہ کيا جاسکتا ہے اور بعد ميں جب تھوڑ ا حفظ کرليا تو اور آسان ہوتا گيا۔
٦۔ ہر روز آپ کتناقرآن حفظ کرتے تھے؟
ج۔ شروع ميں تقريباًڈيڑ صفحہ حفظ کرتا تھا اور اواخر ميں ہر روز ١،٢اور ٣ صفحہ تک حفظ کر ليتا تھا
٧۔ ١،٢يا ٣صفحوں کو آپ کتني ديرميں حفظ کرليتے تھے؟
ج۔ ہر روز تقريباً پندرہ(١٥) منٹ ميں حفظ کر ليتا تھا ليکن بعض مقامات پر جہاں الفاظ سخت ہوا کرتے تھے تو ايسي صورت ميں تقريباً تيس سے چاليس منٹ ميں حفظ کرليتا تھا۔
٨۔ آج کمپيوٹر کا دور ہے اور سيکڑوں کي تعداد ميں کتابيں ايک ’’سي.ڈي‘‘ ميں محفوظ کي جا سکتي ہيں تو ايسے دور ميں قرآن حفظ کرنے کا کيا فائدہ؟
ج۔ ميرے خيال ميں ’’سي.ڈي ‘‘اور حافظہ سے استفادہ کرنے ميں بہت بڑا فرق ہے، کيونکہ حفظ کرنے کے بعد آپ چلتے پھرتے قرآني آيات کي تلاوت کر سکتے ہيں جس کي معنويت ناقابل انکار ہے اور يہ چيز کپيوٹر اور ’’سي ڈي‘‘حاصل نہيں ہوسکتي اور حفظ کرنے بعد قرآن آپ ميں رچ بس جاتا ہے اور يہ کمپيوٹر کے لئے غير ممکن ہے۔
٩۔ جب آپ نے حفظ قرآن کا ارادہ کيا تو مادي اسباب بھي اس ارادے ميں شامل تھے يا نہيں؟
ج۔ جب ميں حفظ قرآن شروع کيا تو اس وقت حافظان قرآن کے لئے کوئي امتياز نہيں اور يہاں کے نظام سے بھي کوئي خاص آشنائي نہيں تھي، کيونکہ قرآن ميري ہدايت کا سبب بنا لہذا ميں نے حفظ کے ذريعہ اس کي خدمت کا ارادہ کيااوربعد ميں پھر خوش قسمتي سے اساتيد نے بھي مزيد حوصلہ افزائي کي اور روز بروز ميرا معنوي شوق بڑھتا گيا۔
١٠۔ کيا آپ شروع سے علم دين کے حصول ميں مشغول ہيں ؟
ج۔ نہيں! اعليٰ تعليم کے لئے ميرا داخلہ امريکا ميں ہوچکا تھا ، ليکن قرآن سے انس مجھے حصول علم کے لئے ايران کھيچ لايا اورپھر ميرے حفظ قرآن کا باعث بنا ۔
١١۔ کيا اپني تعليمات ميں آپ نے حفظ قرآن کا کوئي اثر محسوس کيا؟
ج۔ جي ہاں! تعليم ميںبہت مفيد رہا اور بہت سي مشکليں حل ہوگئيں، تفسير قرآن ميں بھي اچھي خاصي مدد ملي کيونکہ اسلئے جتني آساني سے ايک حافظ قرآن تفسير کر سکتا ہے شايد اتني آساني ايک غير حافظ کے لئے ممکن نہ ہو۔
١٢۔ حفظ کے لحاظ سے قرآن مجيد کي کونسي آيت سب زيادہ سخت ہے؟
ج۔ مجھے ياد نہيں کہ کون سي آيت سب سے زيادہ سخت تھي ، ہاں ايک بات جو قابل غور ہے وہ يہ کہ بعض اوقات قرآن مجيد بعض کي آيتوں ميں ظاہري ربط نہ ملنے کي وجہ سے ترتيب سے حفظ کرنا بہت مشکل ہوتا جاتاتھا۔
١٣. قرآن حفظ کر لينے کے بعد کيا آپ نے اپنے آپ ميں کوئي تبديلي محسوس کي؟
ج۔ سب سے اہم چيز جو ميں نے حفظ کے بعد اپنے آپ ميں محسوس کي وہ نظم و ترتيب ہے ، دوسرے يہ کہ دروس اور مباحثہ وغيرہ بھي منظم ہونے لگے اورادبيات عربي ميں مزيد پختگي حاصل ہوئي ، فہم اسلام ميں مدد ملي، اور کيونکہ خود قرآن نے تدبر کا حکم ديا ہے لہذا اگر قرآن فہمي نہ ہو تو اسلام سمجھنا مشکل ہے اور فہم قرآن کے بغير فہم احاديث غير ممکن ہے اور ايک روحاني ہونے کي حيثيت سے ميں يہ کہوں گا کہ اگر صرف ظاہري الفاظ کو اپنا اوڑنا بچھونا بنا نا اور ہو تا ہے، ليکن اگر اس کي حقيقت اور اخلاقيات پر توجہ ڈي جائے تو اس کا اور ہي فائدہ ہوتا ہے۔

١٤۔کيا آپ کے دوست و احباب پر آپ کے حافظ ہونے کا کوئي مثبت اثر رہا؟
ج۔ کيونکہ شروع سے ميں ہاسٹل ميں رہا لہذا ہمارے دوست و احباب دين سے زيادہ مانونس نہيں اس کے علاوہ مادہ پرست ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مسلک بھي نہيں تھے ، اور سب سے دل چسپ بات تو يہ کہ ميں اپنے رشتہ داروں کي تنقيد کا شکار تھا اور جب ميں قرآن استدلال کرتا تھا تو وہ سب خاموش رہ جاتے تھے اور آخر کاريہ ہوا کہ اب وہ لوگ بہت پختگي کے ساتھ ميري تائيد کرتے ہيں۔
١٥۔ کيا کوئي آپ کا مربي بھي تھا حفظ قرآن ميں ؟
ج۔ جي ہاں ! آقاي ميرداماد۔
١٦۔ حفظ قرآن ميں کيا صرف انسان کا پختہ ارادہ کافي ہے يا اور بھي کسي چيز کا دخل ہے؟
ج۔ ارادے کي پختگي ضروري ہے ليکن جبتک خدا کي توفيق اور اہلبيت سے توسل نہ ہو تو حفظ ممکن نہيں۔
١٧۔  قرآن نے اپنے پيرو کاروں کي فلاح اور بہبود کي ضمانت لي ہے ليکن اس کے باوجود بھي مسلمان ذليل و خوار ہيں اس کي کيا وجہ ہے اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کي کوئي انتہا ہے يا نہيں ؟
ج۔ اس سلسلہ ميں خودرسول کا جملہ قرآن ميں محفوظ ہے کہ ’’ يا ربِّ انّ قومي اتّخذوا ھٰذا القرآن مہجوراً‘‘ لوگوں نے قرآن کو تو اپنايا ليکن اس کي روح سے دور ہيں اور يہي سب سے بڑا سبب ذلت ہے ليکن يہ ظلم و ستم ہميشہ باقي رہنے والا نہيں کيونکہ قرآن ميں خدا کا ارشاد ہے کہ ’’و لقد کتبنا في الزبورمن بعد الذکر انّ الارض يرثھا عبادي الصالحون‘‘ (انبيائ١٠٥) اور’ ’ونريد ان نمنّ علي الذين استضعفوا في الارج و نجعلھم ائمّۃً و نجعلھم الوارثين‘‘(قصص٥) جو اس بات کي روشن دليل ہے کہ يہ ظلم و ستم ہميشہ باقي رہنے واے نہيںہيں۔

١٨۔ کيا آپ کوکھيل کود سے دلچسپي ہے؟
ج۔ پہلے تھي ليکن اب باقي نہ رہي، اور کيونکہ فرصت بھي نہيں ملتي لہذا وہ دلچسپي بھي ختم ہوگئي۔
١٩۔کيا آپ جوانوں کے لئے کوئي پيغام دينا چاہتے ہيں؟
ميرا پيغام يہ ہے کہ اگر مسلمان کسي چيز پر متفق ہو سکتا ہے تو وہ قرآن ہے اس لئے علمائ اور عوام دونوں اپني اپني جگہ اس مقصد کو اپنائيں اور علمائ خود بھي عمل کريں اور عوام کو بھي دعوت ديں اورقرآن کو معاشرہ ميں زندہ ہونا ضروري ہے جيسا کہ قرآن ميں ارشاد ہے ’’لو انھم اقاموا التورٰۃ و الانجيل لاکلو من فوقھم تحت ارجلھم ۔..... يعني اگر اپنے وقت کي آسماني کتاب پر عمل کيا جائے تو چاروں طرف سے خدا کي نعمتوں کي بوچھار ہوگي۔