قرآن و اقبال
سيد جعفر زيدي

ڈاکٹر محمد اقبال لاہوري ١٢٨٩ھ ق مطابق ١٨٧٣عيسوي ميں سيالکوٹ کے ايک مذہبي گھرانے ميں آنکھيں کھو ليں . آپکے والد ماجد نور محمد مذہبي امور ميں بہت زيادہ دلچسپي رکھتے تھے اگر چہ ظاہراً وہ تجارت ميں مشغول تھے . جب علامہ اقبال کچھ بڑے ہوئے تو آپکے والد اس زمانے کي رسم کے مطابق آپکو قرآن مجيد کي تعليم کے لئے مسجد ميں لے گئے اور اسي ابتدائي وقت سے آپکي حساس روح ميں قرآن مجيد سے انس ولگاؤ پيداہوگيا ، اسکے بعد سيالکوٹ کے کالج ميں اف،اے (F.A.)کے درجہ تک تعليم حاصل کي اور بي اے کے لئے لاہور آگئے وہيں پر انکي ملاقات سر ٹامس ارنلڈ سے ہوئي جو فلسفے کے ماہر استاد تھے علامہ اقبال نے انکے زير سايہ اپني تعليم کو جاري رکھا يہاں تک کہ اپني تعليم کے مختلف مراحل کو طے کر کے وکالت کي سند حاصل کي اور يو نيورسٹي ميں استاد کي حيثيت سے خدمت انجام ديں .
ابتدائي مشق کے دنوں کو چھوڑ کرعلامہ اقبال کا اردو کلام بيسويں صدي کے آغاز سے کچھ پہلے شروع ہوتا ہے . ١٩٠١عيسوي سے دو تين سال پہلے ايک مشاعرہ ميں علامہ اقبال کو انکے چند احباب زبر دستي کھينچ کر لائے اور کہہ سن کے ايک غزل بھي پڑھوائي . اس وقت تک لاہور ميں لوگ اقبال سے واقف نہ تھے . چھوٹي سي غزل تھي ، سادہ سے الفاظ ، زمين بھي کوئي مشکل نہ تھي ، مگر کلام ميں شوخي اور بے ساختہ پن موجود تھا ، بہت پسند کي گئي ، اسکے بعد دو تين مرتبہ پھر اسي مشاعرہ ميں انھوں نے غزل پڑھي اور لوگو ں کو معلوم ہو ا کہ ايک ہو نہار شاعر ميدان ميں آيا ہے .
چونکہ علامہ اقبال کو قرآن مجيد سے بے حد انس تھا جسکي بنياد پر آپ نے قرآن مجيد کے بارے ميں کافي کتابوں کا مطالعہ کيا ، يہاں تک کہ آپ قرآن مجيد کے سلسلے ميں ايک مستقل کتاب بھي لکھنا چاہتے تھے ليکن شايد وقت نے انھيں اس بات کي اجازت نہيں دي ، علامہ اقبال کا شمار ان شخصيتوں ميں ہوتا ہیکہ جنھوں نے پاکستان کے استقلال کے لئے بنيادي خدمات انجام ديں .آپ ايک عظيم مفکر تھے آپ نے بہت سے قيمتي مطالب دنيا کے سامنے پيش کئے، منطقہ کے لوگوں ميں دين اسلام کي شناخت اور معرفت کا جذبہ پيدا کرنے اور تشويق دلانے کے لئے بہت سي زحمتيں گورا کيں ، علامہ اقبال نے تمام فکري ميدانوں ميں مسلمانوں کو استقلال و آزادي کا درس ديا .
علامہ اقبال قرآن مجيد کو بہت زيادہ اہميت ديتے تھے ، شيخ سلمان ندوي کہ جو پاکستان کے ايک عالم دين تھے آپکے بارے ميں فرماتے ہيں کہ ايک دن ميں علامہ اقبال سے ملاقات کي غرض سے انکي خدمت ميں حاضر ہوا اور ان سے کہا کہ تعجب کي بات ہے کہ ميں اور ميرے جيسے دوسرت افراد کہ جنھوں نے اپني عمر کا ايک عظيم حصہ مذہبي علوم کي تحصيل ميں گذارا اور مذہبي امور ميں تخصص حاصل کيا ليکن پھر بھي ہم آپکي طرح علوم و معارف اسلامي کي تبليغ اور نشر و اشاعت ميں کامياب نہ ہو سکے . ليکن کيا سبب ہے کہ جسکي بنياد پر آپ نے اس ميدان ميں اتني زيادہ کا ميابي حاصل کي اگر ہو سکے تو اس کاميابي کے راز سے ہميں بھي مطلع فرمائيں ، علامہ اقبال نے جواب ميں فرمايا : اگر آپکي نظر ميں ميں نے کاميابي حاصل کي ہے تو اسکا سبب صرف يہ ہے کہ ميں ہميشہ اپنے والد کي وصيت پر عمل کرتا ہوں جو انھوں نے مجھے بچپنے ميں کي تھي ، ايک دن صبح کے وقت ميں قرآن مجيد کي تلاوت ميں مشغول تھا کہ ميرے کمرے کے سامنے سے گذر ہو ا ، انھوں نے مجھ سے پوچھا ؟کيا پڑھ رہے ہو ؟ ميں نے جواب ديا قرآن مجيد کي تلاوت کر رہا ہوں ، اس وقت ميرے والد نے مجھ سے فرمايا کہ بہت اچھي بات ہے ليکن ميں پسند کرتا ہوں کہ تم جب بھي قرآن مجيد کي تلاوت کرو اسطرح سے کرو کہ گويا تم پر ابھي ابھي قرآن نازل ہو ا ہے اور خود خداوند متعال تم سے ہم کلام ہے ،علامہ اقبال نے اس وصيت کو سنجيدگي سے سنا اور ہميشہ دقت کے ساتھ قرآن کي تلاوت فرماتے تھے .
علامہ اقبال جس قرآن سے تلاوت فرماتے تھے انکي آنکھوں سے آنسو جاري ہو جاتے تھے کہ جسکے نشانات اسکے کاغذ پر آج بھي موجود ہيں اسي بنياد پر اسکو ميوزيم ميں رکھا گيا .
١٣٥٧ ھ ق مطابق ١٩٣٧ عيسوي کو يہ بلبل شيراز ہند مالک حقيقي سے جاملا کہ جسکے حسين نغمات سے روح انساني وجد ميں آجاتي تھي اور سويا ہوا ذہن انساني کروٹيں بدلنے لگتا تھا .
ہزاروں سال نرگس اپني بے نوري پہ روتي ہے
بڑي مشکل سے ہو تا ہے چمن ميں ديدہ ور پيدا
علامہ اقبال بر صغيرکے آخري شاعر فارسي زبان تھے ،فارسي زبان ميں آپکے مجموعے (پيام مشرق )زبور عجم ‘‘اسرار ورموز ‘‘’’ارمغان حجاز ‘‘اور جاويد نامہ ‘‘کے نام سے مشہور ہيں جو متعدد دفعہ زيور طبع سے آراستہ ہو چکے ہيں .
اسي قرآں ميں ہے اب ترک جہاں کي تعليم
تن بہ تقدير ہے آج ان کے عمل کا انداز
تن بہ تقدير ہے آج ان کے عمل کا انداز
جس نے مومن کو بنا يا مہ وپرويں کا امير
تھي نہاں جنکے ارادوں ميں خدا کي تقدير
کہ غلامي ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير
(ضرب کليم ص٤٧٨)
قوموں کي روش سے مجھے ہوتا ہے يہ معلوم
انديشہ ہو ا شوخي افکار پہ مجبور
انساں کي ہوس نے جنھيں رکھا تھا چھپا کر
قرآن ميں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
جو حرف قل العفو ميں پوشيدہ ہے اب تک
بے سود نہيں روس کي يہ گرمي رفتار
فرسودہ طريقوں سے زمانہ ہوا بيزار
کھلتے نظر آتے ہيں بتدريج وہ اسرار
اللہ کرے تجھکو عطا جدت کردار
اس دور ميں شايد وہ حقيقت ہو نمودار
(ضرب کليم ص٥٩٨)