قرآن اور سانس
سيد علي عباس نقوي
 


عزيز دوستوں !اس ميں کوئي شک و شبھہ نہيں ہے کہ قرآن کريم ميں سائنسي علوم کي طرف اشارہ کيا گيا ہے قرآن مجيد ميں سيکڑوں مقامات پر آشکار ياپنہاں علمي (سائنسي ) اشارے ملتے ہيں . ليکن ہميں يہ معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کريم کاملاً ايک ہدايت اور تربيت کي کتاب ہے(١) لہذا اس مطلب کو سمجھنے کیلئے بہت سے طريقوں سے استفادہ کيا گيا ہے . ان ميں سے ايک طريقہ لوگوں کو غور وفکر کي طرف دعوت دينا ہے اور يہ آيات اس لئے نازل ہوئيں ہيں تا کہ ہم خدا کي عظمت اور قدرت سے آگا ہ ہو سکيں . البتہ بعض افراد کا يہ تصور کہ قرآن کريم ميں سائنسي اشارے ہي مورد بحث ہيں اور قرآن ايک سائنسي کتاب ہے (نہ کہ ہدايت کي کتاب ) تو يہ تصور غلط ہے . ان حضرات کو يہ معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کريم ميں يہ مباحث ايک خاص ہدف کے تحت وارد ہوئے ہيں .(٢)اور حقيقتاًقرآن کتاب ہدايت ہي ہے ، اب ہر وہ چيز جو انسان کي تربيت کے لئے لازم ہے اسکا بيان فطري ہے .
قرآن کريم ميں علم کي اہميت :
لفظ علم يا وہ الفاظ جو علم پر دلالت کرتے ہيں ، قرآن مجيد ميں ٧٥٠مرتبہ تکرار ہوئے ہيں . يہ بات اس چيز کي نشاندہي کرتي ہے کہ قرآن کريم علم اور علمائ يا دانشمندوں کو بہت اہميت ديتا ہے . جي ہاں يہ علم ہي ہے جو انسان کو تاريکيوں سے باہر نکالتا ہے . پوري انسانيت کو کمال کي طرف راہنمائي کرتا ہے . علم کے ذريعے انسان ، قرآني مفاہيم اور انبيائ کي تعليمات سے آگاہ ہوتا ہے اور علم ہي کي بدولت انسان ہر روز نئے نئے انکشافات کرتا ہے . اسي وجہ سے دين اسلام ميں علم حاصل کرنے کو ايک فريضہ بيان کيا گيا ہے۔

(٣)اور اس پر بہت تاکيد کي گئي ہے . البتہ قرآن کريم ميں علم سے مراد کوئي خاص علم (جيسے علم فلسفہ ، علم تاريخ ، علم اخلاق ...)نہيں ہے بلکہ اسلام ميں علم کے عمومي معني مراد ہيں ۔ (٤)يعني ہر وہ علم جو انسان کي ترقي کا سبب بن سکتا ہے اور شرعي اعتبار سے اسکي حرمت پر کو ئي دليل نہيں ہے .

(١)۔ذلک الکتٰب لا ريب فيہ ھديً للمتقين بقرہ ٢) (٢)۔ ڈاکٹر ناصر رفيعي ، تفسيرعلمي قرآن ، جلد اول ، ص١١٥
(٣) ۔ قال رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : طلب العلم فريضۃ علي کل مسلم (منتخب ميزان الحکمہ،محمد ري شہري ، ص٣٦٢)
(٤)۔البتہ بعض مقاما ت ميں علم سے مراد علم خاص ہے ليکن يہ موارد استثنائ ہيں
وہ آيات جو علم کے بارے ميں قرآن مجيد ميں ذکر ہوئيں ہيں ؛يہا ں ہم ان پر اجمالي نگاہ ڈاليں گے . ان آيات کو ہم نے چند حصوں ميں تقسيم کيا ہے جو مندرجہ ذيل ہيں : (١)
١)۔ وہ آيات جو مطلق وعلم کے بارے ميں ہيں . جن ميں علم کي اہميت اور علمائ کي عظمت کو اجاگر کيا گيا ہے ۔مثلاًخدا کا ارشاد ہے ھل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون انما يتذکر اولو الالباب (٢)
(کہہ ديجئے کہ کيا وہ لوگ جو جانتے ہيں ان کے برابر ہو جائيں گے جو نہيں جانتے ہيں . اس بات سے صرف
صاحبان عقل نصيحت حاصل کرتے ہيں )
ايک دوسرے مقام پر ارشادخداوند متعال ہوتا ہے :
يرفع اللہ الذين آمنوامنکم والذين اوتوالعلم درجات (٣)
(خدا صاحبان ايمان اور جن کو علم ديا گيا ہے ان کے درجات کو بلند کرتا ہے .)
(٢) وہ آيتيں جو علم ميںاضافہ کي راہيں بيان کرتي ہيں :آنکھ، کان ، عقل اور دل کي طرف اشارہ کرتے ہوئے ، انسان کو ان سے استفادہ کرنے کي ترغيب دلاتي ہيں ، تا کہ وہ علم کو وسعت دے سکے اور اس کو شکر نعمت جانے .
مثال کے طور پر سورہ نحل کي آيت نمبر ٧٨ميں خدا وند فرماتا ہے :
واللہ اخرجکم من بطون امھاتکم لا تعلمون شيئاًو جعل لکم السمع والابصار والافئدۃلعلکم تشکرون
(اور اللہ ہي نے تمہيں شکم مادر سے اس طرح نکالا ہے کہ تم کچھ نہيں جانتے تھے اور اسي لئے تمھارے لئے کان آنکھ اور دل قرار دئے ہيں کہ شايد تم شکر گذار بن جاؤ .)
(٣) وہ آيات جن ميں خلقت جہاں اور آيات الٰہي کے بارے ميں غور وفکر کرنے کي دعوت دي گئي ہے ان ميں ان افراد کي مذمت بھي کي گئي ہے جو غور وفکر نہيں کرتے .
مثلاً ارشاد خدا وند متعال ہے :
ويتفکرون في خلق السمٰوات والارض(٤)
(ور وہ لوگ آسمان و زمين کي پيدائش ميں غور وفکر کرتے ہيں .)
ايک اور جگہ قرآن کريم ميں ملتا ہے افلم ينظرواالي السمائ فوقھم کيف بنيناھا وزيّنّا ھا (٥)

١)۔ ڈاکٹر محمد علي رضائي ، در آمدي بر تفسير علمي ، ص١٣٤) (٢)۔سورہ زمر ٩ (٣)سورہ مجادلہ ١١
(٤)سورہ آل عمران ١٩١ (٥).سورہ ق٦
(کيا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسما ن کي طرف نہيں ديکھا ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنايا ہے اور اس ميں پہاڑ ڈال دئے ہيں اور اسے زينت بخشي ہے .)
علاوہ ازيں سورہ بقرہ کي آيت نمبر ١٧١ميں يوں آيا ہے :
صم بکم عمي فھم لا يعقلون .
(يہ (کفار) بہرے ، گونگے اور اندھے ہيں انہيں عقل سے سروکار نہيں ہے . )
(٤) وہ آيات جو قدرت کے اسرار کو فاش کرتي ہيں . مثلاً
اولم يرو االي الارض کم انبتنا فيھا من کل زوج کريم(١)
(کيا ان لوگوں نے زمين کي طرف نہيں ديکھا کہ ہم نے کس طرح عمدہ عمدہ چيزيں اگائيں ہيں )
اس آيت ميں خداوند متعال نے نباتات کے جوڑوں کي طرف اشارہ کيا ہے اور اس مطلب کو برسوں سال بعد علم نباتات
کے ماہرين نے کشف کيا . ايک اور جگہ قرآن مجيد ميں ملتا ہے :
الشمس تجري لمستقر لھا ذلک تقدير العزيزالعليم ..لا الشمس ينبغي لھا ان تدرک القمر ولا
اليل سابق النھار وکل في فلک يسبحون .(٢)
اور آفتاب اپنے ايک مرکز پر چکر لگا رہا ہے اور خدائے عزيز و عليم کي معين کي ہوئي حرکت ہے نہ آفتاب کے بس ميں ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات کے لئے ممکن ہے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے اور يہ سب کے سب اپنے فلک اور مدار ميں رواں دواں ہيں .
عزيز دوستو!جب زمانے کے افکار پر ھيئت بطليموسي کي حاکميت عروج پر تھي . اس وقت قرآن کريم نے سورج کي حرکت
(نہ کہ زمين کے گرد ) اپنے خاص مدار کي طرف خبر دي تھي . ليکن اب آج سائنس نے بہت طاقت ور ٹلسکوپ کي مدد سے
اس بات کو ثابت کيا ہے .(٣)
جي ہاں !يہ آيت بہت سے دانشمندوں کے گمان کے باوجود جو سيکڑوں سال سورج کو ساکن فرض کرتے رہے ہيں ، اس
عظيم سيارہ کي حرکت کا اعلان کرتي ہے . اور لفظ تجري سے بہت سي معلومات بشريت کو فراہم کرتي ہے .(٤)
اسکے علاوہ علما ئ فلکيات نے ہر دور ميں ان آيات کي نئي نئي تفسيريں کي ہيں اور جس قدر فلکيات کا علم بڑھتا جا رہا ہے . ان
آيات کے معني واضح اور روشن ہوتے جارہے ہيں .

(١)۔سورہ شعرائ ٧ (٢)سورہ يٰس٣٨تا ٤٠ ٣)ڈاکٹر ناصر رفيعي ، تفسير علمي قرآن ، جلد ٢ص٢٤٨
(٤)۔

ڈاکٹرمحمد علي رضائي ، درآمد ي بر تفسير علمي ،ص١٣٦.)